اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سابق نائب وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری سارا میتھیوز نے جمعرات کو اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ 80 سالہ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بکھری ہوئی پوسٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ حقیقت سے اپنا تعلق کھو رہے ہیں۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری رہنے والی سارا میتھیوز نے کہا کہ تشویش کی بات صرف یہ نہیں کہ صدر آن لائن مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بڑی تعداد میں مواد شیئر کرتے ہیں بلکہ وہ جس نوعیت کا مواد شائع کر رہے ہیں، وہ بھی باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس طرح کی باتیں اتنی زیادہ کرتے ہیں کہ لوگ ان کے عجیب رویے سے بے حس ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول، ایک 80 سالہ صدر اپنا بہت سا وقت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فرضی کہانیاں دوبارہ شیئر کرنے اور تیار کرنے میں صرف کر رہا ہے، جن میں اسے دنیا کا سب سے بڑا، طاقتور اور اہم ترین زندہ انسان دکھایا جاتا ہے۔ میتھیوز نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ان کی ذہنی کمزوری اور زوال دیکھ رہے ہیں۔
سارا میتھیوز نے 6 جنوری 2021 کے ہنگاموں کے بعد وائٹ ہاؤس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ ٹرمپ کی سخت ناقد بن گئی ہیں اور صدر کی سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ سرگرمی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت متعدد مطالبات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہ مطالبات ان قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کیے گئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر صدر کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنے منصب کے لیے ’’ناموزوں‘‘ ہو چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ